الہ آباد،4؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)الہ آباد ہائی کورٹ نے غازی آبادمیں واقع خصوصی سی بی آئی عدالت کے ایک جج کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔یہ نوٹس ایک زیرالتواء قیدی کی ضمانت کی درخواست منظور کئے جانے کے ایک ماہ سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بھی ضمانت کے بانڈ کی توثیق کے بہانے اسے حراست میں رکھنے کے لئے جاری کیا گیا ہے۔جسٹس ترن اگروال اور جسٹس راجل کمار کی ڈویژن بنچ نے 31مئی کو یہ حکم منظور کیا جس میں سی بی آئی کی کرپشن مخالف خصوصی جج انل کمار جھا کو نوٹس جاری کیا گیا اور غازی آباد کے ضلع جج کو تحقیقات کر کے 6ہفتے کے اندر اندر ایک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔عدالت نے جھا سے پوچھا کہ وجہ بتائیں کہ آپ کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے اور اگر درخواست گزار کو معاوضہ دیا جاتا ہے تو معاوضے کی یہ رقم آپ کی تنخواہ سے کیوں نہ وصولی جائے۔یہ حکم جیوتبا پھلے نگرکی رہنے والی کویتا کی درخواست پر منظور کیا گیا۔کویتا کو بینک فراڈ کے ایک معاملے میں ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے اور اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کر رہی ہے۔کویتا کی ضمانت کی درخواست 20اپریل کو منظور کر لی گئی تھی۔ان کے وکیل اسیم کمار رائے نے کہا کہ کویتا نے درخواست کی ہے کہ انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کے لئے معاوضہ دیا جانا چاہئے اور نقصان کی تلافی بھی کی جانی چاہئے۔عدالت نے سی بی آئی کو سماعت کی اگلی تاریخ 18جولائی کو اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔